Friday, May 8, 2020

نوابشاہی  عبدالغفار ۔۔۔
کیا آپنے  حق ادا کیا ۔۔۔
قارئین ۔۔۔
 دین کی پانچ بنیادیں ہیں ۔۔۔ شھادة۔۔۔نماز۔۔۔ روزہ۔۔۔ زکوة۔۔۔ حج ۔۔۔۔
دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے یہ پانچ بنیادی شرائط ہیں ۔۔۔انہیں ارکان اسلام بھی کہا جاتا ہے ۔۔۔ان پانچوں کا دل وجان سے ماننا فرض ہے۔۔۔کسی ایک کا انکار اسلام سےخارج کر دیتا ہے ۔۔۔ مختصر وضاحت۔۔۔
قارئین ۔۔۔
1:شھادة سے مراد  اللہ اوراسکے  رسولوں پر ایمان لانے کے ساتھ فرشتوں پر، آسمانی کتابوں پر،قیامت ، روز حشر پر ، مرنے کے بعد زندہ ہونے پر، جزاوسزا پر ،جنت وجہنم وغیرہ پر  ایمان لانا ۔۔۔یہ ہر اس شخص پر لازم اور فرض عین ہے جو دائرہ اسلام میں داخل ہونا چاہتا ہے ۔۔۔
2:..نماز
نماز ہر عاقل بالغ مسلمان مردوعورت پر دن رات میں پانچ مرتبہ ادا کرنا فرض ہے  ۔۔۔
3: روزہ ۔۔۔
 ہر عاقل و بالغ مسلمان پر ماہ رمضان کے روزے رکھنا فرض ہیں ۔۔۔نماز اور روزہ ایسے ارکان ہیں جو خصوصی حالات کے علاوہ ہر مردوعورت غریب ہو چاہے امیر اس پر فرض ہیں ۔۔۔ یہ ایسے فرائض ہیں جن کی ادائگی مکمل فری ہے ۔۔۔اورانکے  فوائد بےشمار ہیں۔۔۔
4:زکوة ۔۔۔
یہ اسلام کا چوتھا رکن ہے جو صرف ایسے  مسلمانوں پر فرض ہے جو مالدار ہیں ۔۔۔اسکی تفصیلات اپنی مالی حیثیت بتا کر معلوم کی جا سکتی ہے ۔۔۔اس پر مزید گفتگو آگے ہوگی جو اس تحریر کا مقصود ہے  ۔۔۔
5:حج۔۔۔
حج اسلام کا پانچواں بنیادی رکن ہے اور یہ ایک عظیم الشان عبادت ہے ۔۔۔اللہ پاک ہر مسلمان کو نصیب فرمائیں ۔۔۔یہ وہ رکن ہے جسکی فرضیت کا انکار  مسلمانوں کو خارج از اسلام کر دیتا  ہے مگر  اسکی ادائگی کا وجوب صاحب استطاعت پر ہے  ۔۔۔ایسا شخص جوبیت اللہ شریف تک  آنے جانے کا سفر اور زیر کفالت لوگوں کا خرچہ رکھتا ہو اس پر  فرض ہے۔۔۔ اس سے متعلق مسائل اپنے علاقے کے  علماء سے معلوم کیے جاسکتے ہیں ۔۔۔
قارئین ۔۔۔
آج کی گفتگو کا موضوع اسلام  کاچوتھا رکن  ”زکوة “ ہے ۔۔۔یہ ارکان اسلام میں ایسا رکن ہے  جسکی بدولت  معاشرے  سے  غربت کا خاتمہ ہوتا ہے  ۔۔۔مستحق لوگ باعزت جیتے اور سکھ کا سانس لیتے ہیں ۔۔۔معذور محتاج اور  نادار لوگوں کے لیے ضروریات زندگی کا سامان بن جاتی ہے ۔۔۔زکوة کی شرح بہت کم ہے لیکن زکوة نکالنے کے بعد  بقیہ مال پاک اور محفوظ  ہونے کے ساتھ بابرکت ہو جاتا ہے ۔۔۔ دنیا کی حرص وہوس کا غلبہ ہوجائے تو پھر انسان اسکے تمام فوائد یکسر بھول جا تا ہے ۔۔۔اور  مالی حقوق کا بوجھ اپنی گردن پر لادے قبرستان کا مہمان بن کر کیڑوں کی خواراک بن جاتا ہے ۔۔۔حدیث کی رو سے  اسکا خزانہ گنجا سانپ بن کر اسکی گردن میں لپٹ جاتاہے ۔۔۔پھر اسکے گالوں اور باچھوں کو کاٹتا جاتا ہے  اور کہتا ہے  ”میں تیرا  مال ہوں “ ۔۔۔
قارئین ۔۔۔
مال کے حقوق واجبہ اور  نافلہ ادا نہ کیے جائیں تو یقین  کریں اس سے بڑھ کر انسان کا روحانی وجسمانی دشمن کوئی نہیں ۔۔۔سکون نام کی کوئی چیز اسکے قریب نہیں پٹختی۔۔۔
بلاشبہ باری تعالی نے انسان کے  لیے مال کو اسباب بنایا ہے  مگر  جب اسے سب کچھ سمجھ لیا  جائے تو یہ تباہی کا سبب ہے۔۔۔ بسااوقات دولت کا نشہ انسان کی عقل پر  سوار ہوکر اس سے ایسی حرکتيں کرواتا ہے کہ اخلاقیات کی تمام حدود پھلانگ جاتا ہے تمیز نام کی  کوئی چیز باقی نہیں  رہتی  ۔۔۔مالی حقوق میں سب سے بڑا حق زکوة ہے  ۔۔۔آقا علیہ السلام کی رحلت کے بعد  صدیق اکبر خلیفہ بنے  بعض  مسلمانوں نے  زکوة دینے سے انکار کیا ۔۔۔آپنے فرمایا  ایسے لوگوں سے جہاد ہوگا ۔۔۔ اگر مسلمان ہیں تو زکوة دینی پڑے گی ۔۔۔
 تمام تاجر حضرات  اس بات کا  اھتمام کریں کہ سال میں ایک مرتبہ اپنے  مال کی زکوة نکالیں ۔۔۔اسکے علاوہ تجارت کو شفاف رکھیں ،دھوکا دہی،  ناپ تول میں کمی، ملاوٹ اور جھوٹ جیسی لعنت سے خودکو بچائیں اور  انبیاء ،صدیقین اور شہداء کی صفوں میں سرخروکھڑے ہوجائیں ۔۔۔قارئین ۔۔۔اللہ پاک نے مجھے  زندگی میں پہلی باراس قابل بنایا کہ اپنی تجارت کی زکوة ادا کروں۔۔۔ آج مجھے لکھنے کو  الفاظ نہیں ملتے جن کو اظہار شکر کے لیے استعمال کروں۔۔۔ قارئین ۔۔۔یہ بات میرے لیے  باعث خوشی کہ  آج میرا ہاتھ  دینے والا ہوگیا آپ علیہ السلام کا  فرمان ہے ۔۔۔ اوپر( دینے) والا  ہاتھ  بہت بہتر ہے  نیچے( لینے) والے ہا تھ سے ۔۔ـ
 قارئین ـــ
ہمیں اپنا اپنا جائزہ لینا چاہیے  اور کوشش کرنی چاہیے کہ ہم اللہ کی  راہ  میں  زکوة وصدقات دینے والے  بنیں نہ کہ لیتے رہیں ۔۔۔الحمدللہ میں  زکوة دینے کا اھل ہوگیا ہوں اور حساب کرکے  زکوة کی رقم منھا کر دی ہے۔۔۔ یوں اپنے اوپر واجب ہونے والا مالی حق ادا کیا  ۔۔۔کیا آپنےبھی اپنا جائزہ لیا  ۔۔۔۔؟

No comments:

Post a Comment