Friday, July 31, 2020

عبدالغفار نوابشاہی

AL.RAYYAN DATES & dry fruits


اپنے تمام فرینڈز اور کسٹمرز کو ایڈوانس 

عیدالاضحی مبارک پیش کرتاہے

Monday, July 20, 2020

بچت بازار




کھجور کھائیں  صحت مند رہیں   

خواہشمند حضرات رجوع فرمائیں 
واٹسپ :03022502761 


خواہشمند حضرات  رجوع فرمائیں 


Tuesday, July 14, 2020

عبدالغفارنوابشاہی


دو یکساں چابیاں
گچھے میں دو یکساں چابیاں تھیں ۔۔۔جب تالا کھولنے لگا تو بآسانی کھلنے والا تالا نہ کھلا ۔۔۔اسی گچھے میں موجود دوسری چابی لگانے سے تالا کھل گیا ۔۔۔
قارئین ۔۔۔
ہمارے  دین ودنیا کے نہ جانے  کتنے بند تالے ہیں کہ انہیں کھولنے کے لیے صرف چابی کافی نہیں بلکہ درست چابی کا ہونا ضروری ہے ۔۔۔ وہ تالا امتحانات میں کامیابی کا ہو چاہے کاروبار کا ۔۔۔کمرے کا ہو یا پھر جنت کے دروازے کا  ۔۔۔ ہر تالے کے لیے درست چابی کا ہونا ضروری ہے ۔۔۔اور درست چابی وہ ہے جو اسی کے لیے بنائی گئی ہے۔۔۔ 
قارئین ۔۔۔
جس  شخص کی کوشش سے کسی کام کی راہیں کھلیں اسکے لیے مثل مشہور ہے کہ اس نے ”کلیدی کردار “ادا کیا ۔۔۔کلید ہی وہ باکمال چیز ہے جو کہیں داخل ہونے کے لیے راہیں ہموار کرتی ہے اوراصل چابی کے علاوہ کسی بھی تالے کے لیے  گچھے میں موجود تمام چابیاں بیکار ہیں سواۓ اس چابی کے  جو اسکے لیے بنائی گئی ہو ۔۔۔لہذا جو اس مقفل کمرے کے اندر جانا چاہتا ہے اسکے لیے  وہی چابی اھم ہے جو اس تالے کو کھولے۔۔۔ 
قارئین ۔۔۔
اللہ پاک کی رضامندی کے حصول اور جنت میں جانے کے لیے ہر نبی کے زمانے میں انکی شریعت اہم تھی اوراسے  فوقیت حاصل تھی گزشتہ شریعت پر ۔۔۔اور اب دین اسلام کو فوقیت حاصل ہے گزشتہ تمام ادیان پر ۔۔۔ارشاد باری ہے  
”اِنَّ الدَّین عنداللہ الاسلام “ 
”الیوم اکملت لکم دینکم “
قارئین ۔۔۔بعض لوگ مسلمان ہونے کے باوجود دنیاوی شہرت اور عہدوں کے حصول کی خاطر اسلام سے بیزاری کا راگ الاپتے رہتے ہیں ۔۔۔شاید انہیں دین اسلام  کی حساسیت کا احساس نہیں ۔۔۔قرآن نے تو صاف فرمایا  ” مؤمن کافر سے  بہت بہتر ہے “ ”سب ایمان والے آپس میں بھائی بھائی ہیں “ پیارے نبی ﷺ نے اپنےحجة الوداع والے خطبے میں  فرمایا تھا  ” سب مسلمان بھائی بھائی ہیں  کسی عربی کو عجمی پر یا عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت نہیں  “ مگریہ تونہیں فرمایا کہ  کسی دین کو دوسرے پر فوقیت نہیں  ۔۔۔یا کسی انسان کو کسی  پر فوقیت نہیں ۔۔۔ صاف صاف معلوم ہوتا ہے کہ دین اسلام کو دیگر ادیان پر اور اھل دین اسلام کو دیگر متبعین ادیان پر  فوقیت حاصل ہے۔۔۔
قارئین ۔۔۔ بلاشبہ ہر مذہب کے پیروکار اپنی اپنی عبادت میں مصروف ہیں  مگر  یاد رکھیں اب عبادت وہی مقبول ہوگی جو دین اسلام  کے مطابق ہوگی ۔۔۔چاہے  سب ادیان کسی کو یکساں کیوں نہ لگیں ۔۔۔مگر  جنت کا تالا جس چابی سے کھلے گا اسکا نام شریعت محمدی دین اسلام ہے ۔۔۔ شریعت محمدی کو سب ادیان پر فوقیت اور برتری حاصل ہےاور اسی میں بہتری ہے ۔۔۔

Tuesday, July 7, 2020

نوابشاہی عبدالغفار

رشتوں کا پاس رکھیں ۔۔۔

قارئین ۔۔۔
ایک شخص نے کئی روز بعد اپنے اس کمرے کو کھولا جسے اس نے صفائی ستھرائی کی حالت میں مقفل کیا تھا ۔۔۔مگر کچھ عرصے بعد جب اسےکھولا تو گردوغبار سے اٹاہوا دیکھ کر اسکی حیرانی کی کوئی انتہا نہ رہی۔۔۔ باوجودیکہ کمرہ مقفل تھا پھر یہ گردوغبار کہاں سے آیا ۔۔۔مٹی کے بیشمار ننھے ذرے کمرے میں رکھی ہر چیز پر اپنی تَہہ جما چکے تھے ۔۔۔کمرے سے ڈسٹ کی بُو اور اوپرا پن محسوس ہورہا تھا ۔۔۔ مقفل کمرہ وحشت و مٹی سےمحفوظ نہ رہ سکا۔۔۔وہ ابھی انگشت بدنداں سوچ ہی رہا تھا قبل اس کے کہ کوئی بات سوجھتی یکایک کمرے کی درودیوار سے بزبانِ حال ایک آواز آئی سنو ۔۔۔! اور پھر پہلے پہل سسکیاں بھر کے رونے کی آوازیں آتی رہیں ۔۔۔روتے روتے ہچکیاں بندھ گئیں ۔۔۔ پھر ایک سناٹا چھایا اور آواز آئی ”” آپکا آنا جانا میری رونق تھی جبکہ چھوڑ کر چلے جانا بربادی ۔۔۔ ““
قارئین ۔۔۔
 یہ ایک خیالی کہانی تھی پشِ نظر  ایک اہم بات کی طرف توجہ کرانا ہے  ۔۔۔ وہ یہ کہ جب ہم لوگ دوستی اور رشتے ناطے توڑ کر عرصہ دراز کے بعد  لوٹنے کی کوشش کرتے ہیں تب ہماری اندرونی حالت بھی اس مقفل کمرے  کی سی ہوچکی ہوتی ہے جو چیخ چیخ کر  پکار اٹھتی ہے ۔۔۔ ”” آپکا آنا جانا  میری رونق تھی جبکہ چھوڑ کر چلے جانا بربادی ۔۔۔  “ 
بقول فراز ۔۔۔۔
سلسلے توڑ گیا وہ سب ہی جاتے جاتے 
ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے ۔۔۔ 
قارئین ۔۔۔ رشتہ چاہے دوستی کا ہو یا قرابت داری کا ۔۔۔ استاد وشاگر کا ہو یا  پیر ومرشد کا  اسکی پاسداری بہت ضروری ہے ۔۔۔ دکھ درد اور خوشی و غمی کے  مواقع پر شرکت کرنا اور وقتاً فوقتاً ہیلو ھائی کرنا نہ صرف تعلقات کی بحالی کا سبب ہے  بلکہ  روح کی تقویت کے ساتھ محبت کا بہترین ذریعہ بھی ہے ۔۔۔ 
قارئین۔۔۔
 یہ رشتےناطے ،دوستیاں اور تعلقات دراصل اس روحانی جوڑ کا مظہر ہیں جن کا فیصلہ  تقدیر میں ہوچکاہوتا ہے ۔۔۔ جسکی بنیاد انسان کے دنیا میں آنے سے پہلے رکھی جاچکی ہوتی ہے ۔۔۔ پھر رفتہ رفتہ بمثلِ پھول وپھل اسمیں انواع واقسام کے رنگ ،خوشبوئیں  اور لذتوں بھرے ذائقے  محسوس ہونے لگتے ہیں ۔۔۔   لیکن جب شعوری دنیا میں قدم رکھتے ہی کوئی انسان رشتوں کی ان کلیوں کو مسل دیتا ہے تب نہ صرف وہ اس رشتے ناطے اور تعلقات کی حق تلفی کرتا ہےبلکہ تقدیر کی ڈوریوں کو بھی ہلانے  سعی ناتمام کرتا ہے  ۔۔۔
قارئین ۔۔۔ اگر ہم اپنی  مصروفیات کی وجہ سے یا بدلتے وقت سے مجبور ہوکر  پہلے دوستوں اور رشتہ داروں کو بھول کر  نئی دنیا بساتے رہے  تو پھر  دل کی دنیا پر ڈھیروں ڈسٹ جمع ہوجائے گی اور  ہر شخص کے اندر سے حیرانی و ویرانی کی چمگادڑوں کی آوازیں آتی رہیں گی ایسے میں  جینے کامزہ آۓگا نہ زندگی گزارنے کا لطف ۔۔۔۔۔

Monday, June 22, 2020

قدرت کا انمول تحفہ

تازہ ذائقہ دار اصیل ڈنگ کھجور عنقریب آنے والی ہیں ۔۔۔ خواہشمند حضرات متوجہ اور تیار
رہیں ۔

واٹسپ03022502761 

Saturday, June 20, 2020

نوابشاہی عبدالغفار

سرسوں کا تیل “ کھانے  میں استعمال کرنے   والے حضرات واٹسپ پر  رجوع کریں ۔۔۔۔whatsap :03022502761   

نوابشاہی عبدالغفار

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعون 
 جامعہ بنوریہ سائٹ ایریا کراچی  کے  مھتمم حضرت مفتی نعیم صاحب رحمہ اللہ  اس دارفانی سے  کوچ کر گۓ  ۔۔۔۔

Saturday, May 9, 2020

حفظ قرآن بڑی سعادت ہے

 قرآن کریم  آسمانی کتابوں میں سے آخری کتاب ہے ۔۔۔جو نبی پاک خاتم الانبیاء ﷺ پر تیئیس سال میں مختلف اوقات اور مقامات پر نازل ہوئی ۔۔۔انسانیت کی صلاح وفلاح کے لیے کافی اور شافی ہے۔۔۔اللہ پاک نے اسکی حفاظت کاخودذمہ لیا ہے۔۔۔
  اسکی حفاظت کا ایک عظیم الشان مظہر حفاظ کی صورت میں ہے ۔۔۔امت کے  افراد نے  قرآن کریم کو حفظ کیا اور یوں سینہ بسینہ آج پندرھویں صدی تک محفوظ رہا ہے  اور انشاءاللہ رہتی دنیا تک رہ کر بالٓاخر  اپنےوطن اصلی کو اٹھا لیا جاۓ گا۔۔۔ ایسا عظیم الشان  کلام ہے  پڑھنے اور سننے والے دونوں مسرور ہوتے ہیں ۔۔۔
حفظ کرنے والےحافظ کوبھی دنیا وآخرت میں  معزز بنادیتا ہے ۔۔۔آجکل ماہ رمضان کی بہاریں چارسو ہیں ۔۔۔ مساجد میں پابندی کی وجہ سے گھر گھر قرآن کریم کا تراویح میں ختم کیا جارہا  ہے۔۔۔احادیث میں آتا ہے حافظ  قرآن جسم کو قبر کی مٹی نہیں کھاتی ۔۔۔روز حشر صاحب قرآن کے والدین کو سونا تاج پہنایا جاۓ گا   اورحافظ قرآن کی سفارش پر جہنم میں جانےوالے دس لوگوں کو جنت میں داخل کیا جاۓ گا ۔۔۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنکو حفظ قرآن کی سعادت نصیب ہوئی  اور بختوں والے ہیں وہ ماں باپ جنکی اولاد  حافظ ہوئی ۔۔۔
ایں سعادت بزور بازو نیست 
تانہ بخشد خداۓ بخشندہ۔۔ 

السلام عليكم ورحمة الله

کینیا  کی  چاۓ اور  سرسوں کے  تیل  کے  لیے  رابطہ  کریں ۔۔۔whatsApp :03022502761 

Friday, May 8, 2020

گاؤں کی سیر

نوابشاہی عبدالغفار 
26-12-2019
                گاؤں کی سیر اور دسمبر کی نشیلی شامیں۔۔۔


   جب بھی ماسٹر صاحب ”گاؤں کی سیر“ کا سبق پڑہاتے تھے یقین کریں گاؤں میں رہنے کے باوجود بھی بہت اچھا لگتا تھا ۔۔۔اگرچہ یہ بھانا شعوری نہیں تھا مگر فطرت کی عکاسی ضرور کرتا تھا ۔۔۔ جو چیز حقائق پر مبنی ہوتی ہےاس کی تنقید یا تعریف بھی حقیقت پر مبنی ہوتی ہے ۔۔۔ گاؤں کا حسن اور سادگی بھی تسلیم شدہ ہے ۔۔۔ اسلیے وہاں تصنع اور بناوٹ اچھی نہیں لگتی اور لگے بھی کیوں کر۔۔۔ اسلیے کہ یہ دونوں حقییقت سے بہت دور ہیں ۔۔۔ میرے ایک دوست ہیں انہوں نے اپنی زندگی کے کئی خوبصورت سال گذارنے کے باوجود شادی نہیں کی ، میں نے کہا کیا بات ہے ۔۔۔؟ فرمانے لگے گھر والے فیصلہ نہیں کر پاتے۔۔۔ جو رشتہ آتاہے اسے دیکھنے کے بعد مشکل اور بڑھتی جاتی ہے کیونکہ لڑکی والوں کی کوشش ہوتی کہ رشتہ ہوہی جاۓ۔۔۔ چنانچہ اس تگ ودو میں وہ اسے ہر طرح کے رنگوں سے رنگارنگ کرکے پیش کرتے ہیں جو اپنی مخفی سیرت کے ساتھ بسا اوقات اپنی اصلی صورت سے بھی بہت دور جاچکی ہوتی ہے اورنتیجتاً وہ نوخیز بھی نتیجہ خیز نہیں ہوتی اور ہماری زندگی مزید حالات سے دوچار ہوتی چلی جاتی ہے ۔۔۔کسی نے تبصرہ کرتے ہوۓ  کہا ”  حسن تو درحقیقت دیہات ہی کا ہے “ ۔۔۔ میرے مطابق انہوں نے درست کہاہے  کیونکہ دیہات میں کوئی رنگارنگی( بیوٹی پارلر میک اپ )  سینٹر نہیں ہوتا ۔۔۔گزشتہ چودہ سال سے روشنیوں کے شہر کراچی میں پیشہ پیغمبری میں مصروف دارالعلوم کراچی میں تدریسی اور اب انتظامی خدمات سے وابستہ ہوں ۔۔۔ شہر میں ہر وہ چیز میسر ہوتی ہے جس کی انسان ضرورت محسوس کرتا ہے۔۔۔ مگر یقین کریں جب چھٹیاں قریب آتی ہیں بس دل مثلِ دیوانہ  گاؤں کی طرف کھچاچلا جاتا ہے۔۔۔خاص طور پر دسمبر کی چھٹیوں کا لطف ہی کچھ اور ہوتا ہے ۔۔۔ یہ موسم ہریالی کا بادشاہ کہلاتا ہے اس موسم میں ہرگاؤں ہریالی کی مالہ پہن لیتا ہے ۔۔۔ سچ پوچھو تو سبزہ زار میں گِھرے کچے گھروں کا منظر رخصتی کے لیے تیارکسی دلہن سے کم نہیں ہوتا ۔۔۔ سرسوں کے پتوں پر گرنے والی شبنم کے قطرے سیپیوں سے نکلے موتیوں کا عکس پیش کرتے ہیں ۔۔۔جب شبنم کے قطرے گندم کے پتوں پر پڑے نظر آتے ہیں تو گندم کی جھکی ننہی پتیوں سےایسا محسوس ہوتا ہےجیسے وہ صدیوں انتظار بعد ملنے والے محبوب کا اپنے آنگن میں پلکوں کے بل استقبال کر رہی ہو۔۔۔ مزیدبرآں جب صبح کا سورج اپنی نشیلی سرخ آنکھوں سے شبنم کے ان قطروں پر پیار بھری نظریں ڈالتا ہے تب تفریح کا مزہ دوبالہ ہو جاتا ہے ۔۔۔ دسمبر کے ان ایام میں سرسوں ،گندم  مولی گاجر شلجم بیروں اورگنے کا موسم ہوتا ہے مگریہ سب کچھ اس عظیم اور محنت کش انسان کی مرہونِمنت ہوتاہے جو سخت ٹھنڈی راتوں میں ٹھٹھرتےپانی اور ٹھنڈی ہواؤں سے مسکراتے ہوئے مڈبھیڑ ہوتا ہے تب ہی یہ گندم مولی اور گاجریں کھانے کے قابل ہوتی ہیں۔۔۔گاؤں میں چھ دن گزر گۓ ہیں مگر سیری نہیں ہوتی جب بھی جانے کی سوچتا ہوں تو ایکدم خیال آتا ہے  چھوڑیں نا ۔۔۔ گاؤں کی ہر پکڈنڈی پکنک پؤانٹ اور کھیت چمنستان لگتا ہے ۔۔۔سادگی کا حسن تو وقت کے ساتھ ساتھ سب تسلیم کرتے ہیں مگر  بروقت اسکا احساس کسی کسی کو ہوتا ہے ۔۔۔صحت افزائی کے مواقع ، شفاف تازہ پانی، اپنے ہاتھوں دوہائی کیا ہوا دودھ اور اماں جی کے ہاتھوں کی لسی مکھن اورسرسوں کا ساگ گاؤں کا لطف اور بڑہا دیتے ہیں جو زندگی بھر یاد آتے رہیں گے  ۔۔۔۔دعا ہے کہ ہر زندہ دل کو زندگی کی یہ بیشمار بہاریں میسر اور زبانِ شکر نصیب ہو۔۔۔۔
نوابشاہی  عبدالغفار ۔۔۔
کیا آپنے  حق ادا کیا ۔۔۔
قارئین ۔۔۔
 دین کی پانچ بنیادیں ہیں ۔۔۔ شھادة۔۔۔نماز۔۔۔ روزہ۔۔۔ زکوة۔۔۔ حج ۔۔۔۔
دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے یہ پانچ بنیادی شرائط ہیں ۔۔۔انہیں ارکان اسلام بھی کہا جاتا ہے ۔۔۔ان پانچوں کا دل وجان سے ماننا فرض ہے۔۔۔کسی ایک کا انکار اسلام سےخارج کر دیتا ہے ۔۔۔ مختصر وضاحت۔۔۔
قارئین ۔۔۔
1:شھادة سے مراد  اللہ اوراسکے  رسولوں پر ایمان لانے کے ساتھ فرشتوں پر، آسمانی کتابوں پر،قیامت ، روز حشر پر ، مرنے کے بعد زندہ ہونے پر، جزاوسزا پر ،جنت وجہنم وغیرہ پر  ایمان لانا ۔۔۔یہ ہر اس شخص پر لازم اور فرض عین ہے جو دائرہ اسلام میں داخل ہونا چاہتا ہے ۔۔۔
2:..نماز
نماز ہر عاقل بالغ مسلمان مردوعورت پر دن رات میں پانچ مرتبہ ادا کرنا فرض ہے  ۔۔۔
3: روزہ ۔۔۔
 ہر عاقل و بالغ مسلمان پر ماہ رمضان کے روزے رکھنا فرض ہیں ۔۔۔نماز اور روزہ ایسے ارکان ہیں جو خصوصی حالات کے علاوہ ہر مردوعورت غریب ہو چاہے امیر اس پر فرض ہیں ۔۔۔ یہ ایسے فرائض ہیں جن کی ادائگی مکمل فری ہے ۔۔۔اورانکے  فوائد بےشمار ہیں۔۔۔
4:زکوة ۔۔۔
یہ اسلام کا چوتھا رکن ہے جو صرف ایسے  مسلمانوں پر فرض ہے جو مالدار ہیں ۔۔۔اسکی تفصیلات اپنی مالی حیثیت بتا کر معلوم کی جا سکتی ہے ۔۔۔اس پر مزید گفتگو آگے ہوگی جو اس تحریر کا مقصود ہے  ۔۔۔
5:حج۔۔۔
حج اسلام کا پانچواں بنیادی رکن ہے اور یہ ایک عظیم الشان عبادت ہے ۔۔۔اللہ پاک ہر مسلمان کو نصیب فرمائیں ۔۔۔یہ وہ رکن ہے جسکی فرضیت کا انکار  مسلمانوں کو خارج از اسلام کر دیتا  ہے مگر  اسکی ادائگی کا وجوب صاحب استطاعت پر ہے  ۔۔۔ایسا شخص جوبیت اللہ شریف تک  آنے جانے کا سفر اور زیر کفالت لوگوں کا خرچہ رکھتا ہو اس پر  فرض ہے۔۔۔ اس سے متعلق مسائل اپنے علاقے کے  علماء سے معلوم کیے جاسکتے ہیں ۔۔۔
قارئین ۔۔۔
آج کی گفتگو کا موضوع اسلام  کاچوتھا رکن  ”زکوة “ ہے ۔۔۔یہ ارکان اسلام میں ایسا رکن ہے  جسکی بدولت  معاشرے  سے  غربت کا خاتمہ ہوتا ہے  ۔۔۔مستحق لوگ باعزت جیتے اور سکھ کا سانس لیتے ہیں ۔۔۔معذور محتاج اور  نادار لوگوں کے لیے ضروریات زندگی کا سامان بن جاتی ہے ۔۔۔زکوة کی شرح بہت کم ہے لیکن زکوة نکالنے کے بعد  بقیہ مال پاک اور محفوظ  ہونے کے ساتھ بابرکت ہو جاتا ہے ۔۔۔ دنیا کی حرص وہوس کا غلبہ ہوجائے تو پھر انسان اسکے تمام فوائد یکسر بھول جا تا ہے ۔۔۔اور  مالی حقوق کا بوجھ اپنی گردن پر لادے قبرستان کا مہمان بن کر کیڑوں کی خواراک بن جاتا ہے ۔۔۔حدیث کی رو سے  اسکا خزانہ گنجا سانپ بن کر اسکی گردن میں لپٹ جاتاہے ۔۔۔پھر اسکے گالوں اور باچھوں کو کاٹتا جاتا ہے  اور کہتا ہے  ”میں تیرا  مال ہوں “ ۔۔۔
قارئین ۔۔۔
مال کے حقوق واجبہ اور  نافلہ ادا نہ کیے جائیں تو یقین  کریں اس سے بڑھ کر انسان کا روحانی وجسمانی دشمن کوئی نہیں ۔۔۔سکون نام کی کوئی چیز اسکے قریب نہیں پٹختی۔۔۔
بلاشبہ باری تعالی نے انسان کے  لیے مال کو اسباب بنایا ہے  مگر  جب اسے سب کچھ سمجھ لیا  جائے تو یہ تباہی کا سبب ہے۔۔۔ بسااوقات دولت کا نشہ انسان کی عقل پر  سوار ہوکر اس سے ایسی حرکتيں کرواتا ہے کہ اخلاقیات کی تمام حدود پھلانگ جاتا ہے تمیز نام کی  کوئی چیز باقی نہیں  رہتی  ۔۔۔مالی حقوق میں سب سے بڑا حق زکوة ہے  ۔۔۔آقا علیہ السلام کی رحلت کے بعد  صدیق اکبر خلیفہ بنے  بعض  مسلمانوں نے  زکوة دینے سے انکار کیا ۔۔۔آپنے فرمایا  ایسے لوگوں سے جہاد ہوگا ۔۔۔ اگر مسلمان ہیں تو زکوة دینی پڑے گی ۔۔۔
 تمام تاجر حضرات  اس بات کا  اھتمام کریں کہ سال میں ایک مرتبہ اپنے  مال کی زکوة نکالیں ۔۔۔اسکے علاوہ تجارت کو شفاف رکھیں ،دھوکا دہی،  ناپ تول میں کمی، ملاوٹ اور جھوٹ جیسی لعنت سے خودکو بچائیں اور  انبیاء ،صدیقین اور شہداء کی صفوں میں سرخروکھڑے ہوجائیں ۔۔۔قارئین ۔۔۔اللہ پاک نے مجھے  زندگی میں پہلی باراس قابل بنایا کہ اپنی تجارت کی زکوة ادا کروں۔۔۔ آج مجھے لکھنے کو  الفاظ نہیں ملتے جن کو اظہار شکر کے لیے استعمال کروں۔۔۔ قارئین ۔۔۔یہ بات میرے لیے  باعث خوشی کہ  آج میرا ہاتھ  دینے والا ہوگیا آپ علیہ السلام کا  فرمان ہے ۔۔۔ اوپر( دینے) والا  ہاتھ  بہت بہتر ہے  نیچے( لینے) والے ہا تھ سے ۔۔ـ
 قارئین ـــ
ہمیں اپنا اپنا جائزہ لینا چاہیے  اور کوشش کرنی چاہیے کہ ہم اللہ کی  راہ  میں  زکوة وصدقات دینے والے  بنیں نہ کہ لیتے رہیں ۔۔۔الحمدللہ میں  زکوة دینے کا اھل ہوگیا ہوں اور حساب کرکے  زکوة کی رقم منھا کر دی ہے۔۔۔ یوں اپنے اوپر واجب ہونے والا مالی حق ادا کیا  ۔۔۔کیا آپنےبھی اپنا جائزہ لیا  ۔۔۔۔؟