دو یکساں چابیاں
گچھے میں دو یکساں چابیاں تھیں ۔۔۔جب تالا کھولنے لگا تو بآسانی کھلنے والا تالا نہ کھلا ۔۔۔اسی گچھے میں موجود دوسری چابی لگانے سے تالا کھل گیا ۔۔۔
قارئین ۔۔۔
ہمارے دین ودنیا کے نہ جانے کتنے بند تالے ہیں کہ انہیں کھولنے کے لیے صرف چابی کافی نہیں بلکہ درست چابی کا ہونا ضروری ہے ۔۔۔ وہ تالا امتحانات میں کامیابی کا ہو چاہے کاروبار کا ۔۔۔کمرے کا ہو یا پھر جنت کے دروازے کا ۔۔۔ ہر تالے کے لیے درست چابی کا ہونا ضروری ہے ۔۔۔اور درست چابی وہ ہے جو اسی کے لیے بنائی گئی ہے۔۔۔
قارئین ۔۔۔
جس شخص کی کوشش سے کسی کام کی راہیں کھلیں اسکے لیے مثل مشہور ہے کہ اس نے ”کلیدی کردار “ادا کیا ۔۔۔کلید ہی وہ باکمال چیز ہے جو کہیں داخل ہونے کے لیے راہیں ہموار کرتی ہے اوراصل چابی کے علاوہ کسی بھی تالے کے لیے گچھے میں موجود تمام چابیاں بیکار ہیں سواۓ اس چابی کے جو اسکے لیے بنائی گئی ہو ۔۔۔لہذا جو اس مقفل کمرے کے اندر جانا چاہتا ہے اسکے لیے وہی چابی اھم ہے جو اس تالے کو کھولے۔۔۔
قارئین ۔۔۔
اللہ پاک کی رضامندی کے حصول اور جنت میں جانے کے لیے ہر نبی کے زمانے میں انکی شریعت اہم تھی اوراسے فوقیت حاصل تھی گزشتہ شریعت پر ۔۔۔اور اب دین اسلام کو فوقیت حاصل ہے گزشتہ تمام ادیان پر ۔۔۔ارشاد باری ہے
”اِنَّ الدَّین عنداللہ الاسلام “
”الیوم اکملت لکم دینکم “
قارئین ۔۔۔بعض لوگ مسلمان ہونے کے باوجود دنیاوی شہرت اور عہدوں کے حصول کی خاطر اسلام سے بیزاری کا راگ الاپتے رہتے ہیں ۔۔۔شاید انہیں دین اسلام کی حساسیت کا احساس نہیں ۔۔۔قرآن نے تو صاف فرمایا ” مؤمن کافر سے بہت بہتر ہے “ ”سب ایمان والے آپس میں بھائی بھائی ہیں “ پیارے نبی ﷺ نے اپنےحجة الوداع والے خطبے میں فرمایا تھا ” سب مسلمان بھائی بھائی ہیں کسی عربی کو عجمی پر یا عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت نہیں “ مگریہ تونہیں فرمایا کہ کسی دین کو دوسرے پر فوقیت نہیں ۔۔۔یا کسی انسان کو کسی پر فوقیت نہیں ۔۔۔ صاف صاف معلوم ہوتا ہے کہ دین اسلام کو دیگر ادیان پر اور اھل دین اسلام کو دیگر متبعین ادیان پر فوقیت حاصل ہے۔۔۔
قارئین ۔۔۔ بلاشبہ ہر مذہب کے پیروکار اپنی اپنی عبادت میں مصروف ہیں مگر یاد رکھیں اب عبادت وہی مقبول ہوگی جو دین اسلام کے مطابق ہوگی ۔۔۔چاہے سب ادیان کسی کو یکساں کیوں نہ لگیں ۔۔۔مگر جنت کا تالا جس چابی سے کھلے گا اسکا نام شریعت محمدی دین اسلام ہے ۔۔۔ شریعت محمدی کو سب ادیان پر فوقیت اور برتری حاصل ہےاور اسی میں بہتری ہے ۔۔۔
No comments:
Post a Comment