رشتوں کا پاس رکھیں ۔۔۔
قارئین ۔۔۔
ایک شخص نے کئی روز بعد اپنے اس کمرے کو کھولا جسے اس نے صفائی ستھرائی کی حالت میں مقفل کیا تھا ۔۔۔مگر کچھ عرصے بعد جب اسےکھولا تو گردوغبار سے اٹاہوا دیکھ کر اسکی حیرانی کی کوئی انتہا نہ رہی۔۔۔ باوجودیکہ کمرہ مقفل تھا پھر یہ گردوغبار کہاں سے آیا ۔۔۔مٹی کے بیشمار ننھے ذرے کمرے میں رکھی ہر چیز پر اپنی تَہہ جما چکے تھے ۔۔۔کمرے سے ڈسٹ کی بُو اور اوپرا پن محسوس ہورہا تھا ۔۔۔ مقفل کمرہ وحشت و مٹی سےمحفوظ نہ رہ سکا۔۔۔وہ ابھی انگشت بدنداں سوچ ہی رہا تھا قبل اس کے کہ کوئی بات سوجھتی یکایک کمرے کی درودیوار سے بزبانِ حال ایک آواز آئی سنو ۔۔۔! اور پھر پہلے پہل سسکیاں بھر کے رونے کی آوازیں آتی رہیں ۔۔۔روتے روتے ہچکیاں بندھ گئیں ۔۔۔ پھر ایک سناٹا چھایا اور آواز آئی ”” آپکا آنا جانا میری رونق تھی جبکہ چھوڑ کر چلے جانا بربادی ۔۔۔ ““
قارئین ۔۔۔
یہ ایک خیالی کہانی تھی پشِ نظر ایک اہم بات کی طرف توجہ کرانا ہے ۔۔۔ وہ یہ کہ جب ہم لوگ دوستی اور رشتے ناطے توڑ کر عرصہ دراز کے بعد لوٹنے کی کوشش کرتے ہیں تب ہماری اندرونی حالت بھی اس مقفل کمرے کی سی ہوچکی ہوتی ہے جو چیخ چیخ کر پکار اٹھتی ہے ۔۔۔ ”” آپکا آنا جانا میری رونق تھی جبکہ چھوڑ کر چلے جانا بربادی ۔۔۔ “
بقول فراز ۔۔۔۔
سلسلے توڑ گیا وہ سب ہی جاتے جاتے
ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے ۔۔۔
قارئین ۔۔۔ رشتہ چاہے دوستی کا ہو یا قرابت داری کا ۔۔۔ استاد وشاگر کا ہو یا پیر ومرشد کا اسکی پاسداری بہت ضروری ہے ۔۔۔ دکھ درد اور خوشی و غمی کے مواقع پر شرکت کرنا اور وقتاً فوقتاً ہیلو ھائی کرنا نہ صرف تعلقات کی بحالی کا سبب ہے بلکہ روح کی تقویت کے ساتھ محبت کا بہترین ذریعہ بھی ہے ۔۔۔
قارئین۔۔۔
یہ رشتےناطے ،دوستیاں اور تعلقات دراصل اس روحانی جوڑ کا مظہر ہیں جن کا فیصلہ تقدیر میں ہوچکاہوتا ہے ۔۔۔ جسکی بنیاد انسان کے دنیا میں آنے سے پہلے رکھی جاچکی ہوتی ہے ۔۔۔ پھر رفتہ رفتہ بمثلِ پھول وپھل اسمیں انواع واقسام کے رنگ ،خوشبوئیں اور لذتوں بھرے ذائقے محسوس ہونے لگتے ہیں ۔۔۔ لیکن جب شعوری دنیا میں قدم رکھتے ہی کوئی انسان رشتوں کی ان کلیوں کو مسل دیتا ہے تب نہ صرف وہ اس رشتے ناطے اور تعلقات کی حق تلفی کرتا ہےبلکہ تقدیر کی ڈوریوں کو بھی ہلانے سعی ناتمام کرتا ہے ۔۔۔
قارئین ۔۔۔ اگر ہم اپنی مصروفیات کی وجہ سے یا بدلتے وقت سے مجبور ہوکر پہلے دوستوں اور رشتہ داروں کو بھول کر نئی دنیا بساتے رہے تو پھر دل کی دنیا پر ڈھیروں ڈسٹ جمع ہوجائے گی اور ہر شخص کے اندر سے حیرانی و ویرانی کی چمگادڑوں کی آوازیں آتی رہیں گی ایسے میں جینے کامزہ آۓگا نہ زندگی گزارنے کا لطف ۔۔۔۔۔
No comments:
Post a Comment