نوابشاہی عبدالغفار
26-12-2019
گاؤں کی سیر اور دسمبر کی نشیلی شامیں۔۔۔
جب بھی ماسٹر صاحب ”گاؤں کی سیر“ کا سبق پڑہاتے تھے یقین کریں گاؤں میں رہنے کے باوجود بھی بہت اچھا لگتا تھا ۔۔۔اگرچہ یہ بھانا شعوری نہیں تھا مگر فطرت کی عکاسی ضرور کرتا تھا ۔۔۔ جو چیز حقائق پر مبنی ہوتی ہےاس کی تنقید یا تعریف بھی حقیقت پر مبنی ہوتی ہے ۔۔۔ گاؤں کا حسن اور سادگی بھی تسلیم شدہ ہے ۔۔۔ اسلیے وہاں تصنع اور بناوٹ اچھی نہیں لگتی اور لگے بھی کیوں کر۔۔۔ اسلیے کہ یہ دونوں حقییقت سے بہت دور ہیں ۔۔۔ میرے ایک دوست ہیں انہوں نے اپنی زندگی کے کئی خوبصورت سال گذارنے کے باوجود شادی نہیں کی ، میں نے کہا کیا بات ہے ۔۔۔؟ فرمانے لگے گھر والے فیصلہ نہیں کر پاتے۔۔۔ جو رشتہ آتاہے اسے دیکھنے کے بعد مشکل اور بڑھتی جاتی ہے کیونکہ لڑکی والوں کی کوشش ہوتی کہ رشتہ ہوہی جاۓ۔۔۔ چنانچہ اس تگ ودو میں وہ اسے ہر طرح کے رنگوں سے رنگارنگ کرکے پیش کرتے ہیں جو اپنی مخفی سیرت کے ساتھ بسا اوقات اپنی اصلی صورت سے بھی بہت دور جاچکی ہوتی ہے اورنتیجتاً وہ نوخیز بھی نتیجہ خیز نہیں ہوتی اور ہماری زندگی مزید حالات سے دوچار ہوتی چلی جاتی ہے ۔۔۔کسی نے تبصرہ کرتے ہوۓ کہا ” حسن تو درحقیقت دیہات ہی کا ہے “ ۔۔۔ میرے مطابق انہوں نے درست کہاہے کیونکہ دیہات میں کوئی رنگارنگی( بیوٹی پارلر میک اپ ) سینٹر نہیں ہوتا ۔۔۔گزشتہ چودہ سال سے روشنیوں کے شہر کراچی میں پیشہ پیغمبری میں مصروف دارالعلوم کراچی میں تدریسی اور اب انتظامی خدمات سے وابستہ ہوں ۔۔۔ شہر میں ہر وہ چیز میسر ہوتی ہے جس کی انسان ضرورت محسوس کرتا ہے۔۔۔ مگر یقین کریں جب چھٹیاں قریب آتی ہیں بس دل مثلِ دیوانہ گاؤں کی طرف کھچاچلا جاتا ہے۔۔۔خاص طور پر دسمبر کی چھٹیوں کا لطف ہی کچھ اور ہوتا ہے ۔۔۔ یہ موسم ہریالی کا بادشاہ کہلاتا ہے اس موسم میں ہرگاؤں ہریالی کی مالہ پہن لیتا ہے ۔۔۔ سچ پوچھو تو سبزہ زار میں گِھرے کچے گھروں کا منظر رخصتی کے لیے تیارکسی دلہن سے کم نہیں ہوتا ۔۔۔ سرسوں کے پتوں پر گرنے والی شبنم کے قطرے سیپیوں سے نکلے موتیوں کا عکس پیش کرتے ہیں ۔۔۔جب شبنم کے قطرے گندم کے پتوں پر پڑے نظر آتے ہیں تو گندم کی جھکی ننہی پتیوں سےایسا محسوس ہوتا ہےجیسے وہ صدیوں انتظار بعد ملنے والے محبوب کا اپنے آنگن میں پلکوں کے بل استقبال کر رہی ہو۔۔۔ مزیدبرآں جب صبح کا سورج اپنی نشیلی سرخ آنکھوں سے شبنم کے ان قطروں پر پیار بھری نظریں ڈالتا ہے تب تفریح کا مزہ دوبالہ ہو جاتا ہے ۔۔۔ دسمبر کے ان ایام میں سرسوں ،گندم مولی گاجر شلجم بیروں اورگنے کا موسم ہوتا ہے مگریہ سب کچھ اس عظیم اور محنت کش انسان کی مرہونِمنت ہوتاہے جو سخت ٹھنڈی راتوں میں ٹھٹھرتےپانی اور ٹھنڈی ہواؤں سے مسکراتے ہوئے مڈبھیڑ ہوتا ہے تب ہی یہ گندم مولی اور گاجریں کھانے کے قابل ہوتی ہیں۔۔۔گاؤں میں چھ دن گزر گۓ ہیں مگر سیری نہیں ہوتی جب بھی جانے کی سوچتا ہوں تو ایکدم خیال آتا ہے چھوڑیں نا ۔۔۔ گاؤں کی ہر پکڈنڈی پکنک پؤانٹ اور کھیت چمنستان لگتا ہے ۔۔۔سادگی کا حسن تو وقت کے ساتھ ساتھ سب تسلیم کرتے ہیں مگر بروقت اسکا احساس کسی کسی کو ہوتا ہے ۔۔۔صحت افزائی کے مواقع ، شفاف تازہ پانی، اپنے ہاتھوں دوہائی کیا ہوا دودھ اور اماں جی کے ہاتھوں کی لسی مکھن اورسرسوں کا ساگ گاؤں کا لطف اور بڑہا دیتے ہیں جو زندگی بھر یاد آتے رہیں گے ۔۔۔۔دعا ہے کہ ہر زندہ دل کو زندگی کی یہ بیشمار بہاریں میسر اور زبانِ شکر نصیب ہو۔۔۔۔
Zabrdast bhaijan 🙂
ReplyDelete